**
داعش نے علمائے کرام اور اساتذہ کی
زندگیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے
دھماکہ خیز مواد کو عام شہریوں کے درمیان چھوڑ دیا ہے** فجر کے وقت داعش دہشت گرد
تنظیم نے عراق کے
شہر موصل میں علماء اور اساتذہ کے علاقوں میں شہریوں کے درمیان
اپنے دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو
گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تنظیم نے القدسیہ محلے میں کار بم سے خودکش حملہ کیا
جس کے نتیجے میں 10 شہری ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ تنظیم نے الربیض ضلع میں ایک
کار
بم حملہ بھی کیا جس میں 5 شہری ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ فوری طور پر، عراقی انسدادِ
دہشت گردی کی فورسز بم دھماکوں کے مقامات پر پہنچ گئیں، اور تنظیم کے عناصر کو تلاش
کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن شروع کیا۔ اور فورسز علماء کرام اور
اساتذہ کی زندگیوں کو تنظیم کے
عناصر سے پاک کرنے اور عام شہریوں کو ان میں سے پاک
کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ حملہ عراق میں داعش دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ملک کے
بڑے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں کیے جانے والے حملوں
کا ایک حصہ ہے۔ **حملے کی تفصیلات** پہلا حملہ رات 12:00 بجے ہوا۔ مقامی وقت کے
مطابق، جب موصل میں علماء اور اساتذہ کے محلوں میں سے ایک، القدسیہ محلے میں ایک
کار بم دھماکہ ہوا۔ حملے میں 10 شہری جاں بحق اور بچوں اور خواتین سمیت 20 زخمی
ہوئے۔ دوسرا حملہ دوپہر ایک بجے ہوا۔ مقامی وقت کے مطابق، جب موصل میں علماء و
مشائخ کے محلوں میں سے ایک، الربیع میں ایک کار بم دھماکہ ہوا۔ حملے کے نتیجے میں 5
شہری ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہوئے۔ **آپریشن سیکیورٹی** عراقی انسداد دہشت گردی
فورسز بم دھماکوں کے مقامات پر پہنچ گئیں، اور تنظیم کے عناصر کو تلاش کرنے کے لیے
بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن
شروع کیا۔ اور فورسز علماء کرام اور اساتذہ کی
زندگیوں کو تنظیم کے عناصر سے پاک کرنے اور عام شہریوں کو ان میں سے پاک کرنے میں
کامیاب ہوئیں۔ **بڑھے ہوئے حملے** یہ حملہ عراق میں داعش دہشت گرد تنظیم کی طرف سے
ملک کے بڑے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں کیے جانے
والے حملوں کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک یہ تنظیم عراق میں
300 سے زائد حملے کر چکی ہے جس کے نتیجے میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
عراقی افواج نے تنظیم کے خلاف اپنی حفاظتی مہم تیز کر دی، اور رواں سال کے دوران اس
کے 2000 سے زیادہ عناصر کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔
Comments